Hackers That Never Caught | Detailed Information

 ہیکرز جو کہ پکڑے نہیں گئے؟


اس پوسٹ میں ہم بات کرنے والے ہیں ایسے ہیکرز کے بارے میں جو کہ کبھی پکڑے نہیں گئے ۔اور جن کو کوئی جانتا بھی نہیں ۔وہ کون ہیں ؟ ان کی کوئی پہچان نہیں ہے ۔

ہم یہاں پر بات کرنے والے ہیں انجان گروپ کے بارے میں جو کہ ہیکروں کا ایک گروہ تھا ۔2003میں ایک فارم کے ذریعے سے اس کی شروعات ہوئی تھی ۔

وہیں سے شروعات ہوئی تھی اس ویب سائٹ کی ۔یہاں کے جو لوگ ہیں جو کہ انجان والے گروپ کے لوگ ہیں۔

 ان کی پہچان یہ ہے کہ ان کے اوپر ایک سفید رنگ کا ایک ماسک ہوتاہے ۔۔


Hacker White Mask.

انجان لوگ اس قسم کے ماسک کو پہنتے ہیں ۔یہاں تک کہ گورنمنٹ کے ڈپارٹمنٹ والے بھی جن کا تعلق انٹیلیجنس ایجنسی والے لوگ بھی ان انجان لوگوں کو بھی نہیں پکڑ سکتے۔یہ انجان لوگوں کی کوئی پہچان ہی نہیں ۔لیکن کیوں؟
 
ان کا یہ جو خیال ہے ۔ان کی جو یہ آئیڈلوجی ہے جس پر یہ لوگ کام کرتے ہیں ۔وہ یہ ہے کہ ہم عام لوگوں کو انصاف ملنا چاہیے۔کوئی بھی غلط چیز نہیں ہونی چاہیے ۔

Hackers Ideology

پھر جو لوگ ان انجان لوگوں کے خلاف جاتے ہیں تو وہ اپنے حساب سے ان پر ایکشن لیتے ہیں ۔
ہیکٹوزم کا جو خیال ہے یہی لوگ لے کر آئے ہیں ۔اور ہیکرز کا جو کوئی بھی ایمج ہے ۔

تو وہ انجان لوگوں کی ہی ہے ۔ماسک کے ذریعے آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ سامنے والا کوئی بھی ہے
 اس کا تعلق انجان لوگوں سے ہے یا پھر کوئی لینا دینا ہیکنگ سے ہے ۔

تو کیا پولیس ان تمام لوگوں کو گرفتار کرگی جن لوگوں کے پاس وہ سفید ماسک ہے ۔وہ ماسک
 ایک مووی میں بھی تھا۔ماسک پہننا غیر قانونی نہیں ہے ۔

غلط کام کرنا غیر قانونی ہے ۔اگر آپ اس ماسک کو پہن کو گھومتے ہیں تو پولیس آپ کو گرفتار نہیں کرئے گی ۔کیونکہ وہ ایک مووی کے کریکٹر کا ماسک ہے ۔

اس پر پولیس کچھ بھی نہیں کر سکتی۔اور ہاں اگر آپ کوئی غلط کام کررہے ہوتے ہیں اس ماسک ہو استعمال کر کے تو پھر پولیس آپ کو پکڑ سکتی ہے ۔

اور یہ لوگ جو کام کرتے ہیں یہ انجانی دُنیا  میں رہے کر کرتے ہیں ۔ان لوگوں  نے بہت ساری جگہوں پر پریڈ کی ہے ۔جب کسی کو ایسے ڈھونڈا ہی نہیں جا سکتا۔یہ خیال دُنیا میں کہیں بھی پھیل سکتاہے ۔

اور یہ کون لوگ ہیں کوئی بھی نہیں جانتا۔یہ کوئی بھی ہو سکتے ہیں اسی لیے پولیس ان کو کبھی پکڑ نہیں پائی ۔ان کو پکڑنا ناممکن ہے ۔اور آپ جان لیں کہ ان انجان لوگوں کو پکڑنا بہت ہی مشکل ہے ۔

اب میں بات کرتا ہوں ایسے ہیکر کی ۔جو کبھی بھی  نہیں پکڑا گیا۔اس کا نام تھا  استرا۔ڈیسورڈ کمپنی
 کو اس نے کافی حد تک ہیک کیا ۔ڈیسورڈ کمپنی جو کہ ایڈوانس آلات بنانے  میں ماہر ہے ۔آپ کو پتا ہو گا یہ جو ملٹری کی چیزیں ہوتی ہیں ۔وہ بہت ہی مہنگی ہوتی ہیں ۔وہ سستی نہیں ہوتیں۔

پانچ سال تک استرا اس کو ہیک کرتا رہا۔اور دو سو سے ڈھائی سو لوگوں کو بیچتا رہا۔کوئی نہیں جانتا کہ استرا کون ہے ۔استرا ایک سینسکرتھ کا لفظ ہے ۔جس کا مطلب ہوتاہے ہیتھار۔

کیا اس تعلق پاکستا ن سے تھا اس کا کوئی پتا نہیں چل پایا ۔کہ یہ ہیکر تھا کون ۔2008میں ایک ہیکر کو 
گرفتار کیا گیا تھا ۔وہ ایک 58 سالہ ایک ریا ضی دان تھا۔58 سال کو ایک آدمی جو کہ ریاضی دان ہے ۔

بہت لوگوں کا یہ ماننا ہے جو استرا ہیکر تھا ۔وہ یہی تھا ۔وہ یہی گریک ریاضی دان تھا ۔جس کی عمر 58 سال تھی ۔کیا وہ ابھی ہو گا؟ کیا وہ تھا نہیں تھا؟کوئی بھی نہیں جانتا۔وہ ریاضی دان جو کو گرفتار کیا گیا تھا ۔اس کے خلاف کی پختہ ثبوت نا ہونے کی وجہ سے اس کو رہا کرنا پڑا۔

اور یہ جودو ہیکر ہیں ۔انجان لوگ کبھی بھی نہیں پکڑے جا سکتے ۔بہت زیادہ مشکل ہے ۔اور استرا ہیکر بھی کبھی نہیں پکڑا گیا۔کون تھا یہ ؟کہاں چلا گیا ؟کیا وہ اب زندہ بھی ہے ؟کہاں ہے ؟

کوئی بھی اس کے بارے میں نہیں جانتا۔میں نے آپ کو بتا دیا کہ ایسے ہیکر جو پکڑے نہیں گئے۔
جن کو کبھی جانا نہیں جا سکا۔

اگر آپ کو یہ پوسٹ اچھی لگی اور کچھ نیا سیکھنے کو ملا تو اس کو لائیک اور شیر کردیں۔

If you have any problem comment to know.

Post a Comment (0)
Previous Post Next Post